ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یکم جولائی سے آن لائن شاپنگ کرنا پڑ سکتا ہے مہنگا

یکم جولائی سے آن لائن شاپنگ کرنا پڑ سکتا ہے مہنگا

Wed, 28 Jun 2017 11:20:08    S.O. News Service

نئی دہلی،27؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)یکم جولائی سے جی ایس ٹی لاگو ہوتے ہی آن لائن شاپنگ مہنگی ہو سکتی ہے۔اس کے پیچھے وجہ بھی ہے۔جی ایس ٹی لاگو ہوتے ہی کامرس کمپنیوں کو ان سپلائرز کو ادائیگی کرتے وقت 1فیصدٹی سی ایس (ٹیکس کلیکشن ایٹ سورس)وصولنے کی ضرورت ہو گی، اسے دیکھتے ہوئے فلپ کارٹ، ایمیزون سمیت کئی کامرس کمپنیاں بہت سے آفر کے ساتھ آن لائن خریداری پر زبردست رعایت دے رہی ہے،بہت سے سامانوں کی قیمت پر تو 80فیصد تک کی چھوٹ ہے،اب ان کمپنیوں کو ٹی سی ایس نہیں دینا پڑ رہا ہے، لیکن جیسے ہی جی ایس ٹی لاگو ہوگا، انہیں یہ ٹیکس دینا پڑے گا اور اس کا بوجھ صارفین پر پڑے گا۔اس کی وجہ سے یہ کمپنیاں اپنا زیادہ سے زیادہ اسٹاک ختم کرنا چاہتی ہیں۔

ای کامرس کے ماہر ڈاکٹر امت مہیشوری بتاتے ہیں کہ ابھی تک ای کامرس تاجروں پر کوئی ٹیکس نہیں تھا،اب 1فیصد ٹیکس لگے گا اور یہ بوجھ صارفین تک پہنچے گا ۔جی ایس ٹی کے نیٹ ورک پورٹل نے کامرس آپریٹرز کا رجسٹریشن 25جون سے قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔بھاری بھیڑ کو دیکھتے ہوئے تمام رجسٹریشن کے جی ایس ٹی نافذ ہونے کی تاریخ یعنی یکم جولائی سے پہلے ہونے کا امکان نہیں کے برابر ہے۔اس حکومت نے کچھ وقت کے لئے انہیں ٹیکس دینے سے چھوٹ دے دی ہے، یعنی اب کچھ اور وقت تک آن لائن شاپنگ کرنا اقتصادی رہے گا،اگرچہ اس فیصلے کے بعد باقی تاجر بھی ٹیکس سے چھوٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سی اے آئی ٹی کے سیکریٹری پروین کھنڈیلوال کا کہنا ہے کہ حکومت نے ای کامرس والوں کو کچھ دن کے لئے ٹیکس سے چھوٹ دی ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ باقی تاجروں کو بھی چھوٹ ملے،اس کے لئے کپڑے تاجر بھی مظاہرہ کر رہے ہیں۔اگر آپ خریداری کا من بنا رہے ہیں تو جولائی سے پہلے آن لائن شاپنگ کر چل رہی بھاری چھوٹ کا فائدہ لے سکتے ہیں اور یہ کمپنیاں ایک دن کے اندر ہی چیزیں آپ کے گھر تک بھی پہنچا دیں گی، لیکن جی ایس ٹی لگنے کے بعد آن لائن اور بازار سے شاپنگ کرنا مہنگا پڑے گا۔


Share: